June 21, 2018 world News

بھارت، ہندو انتہا پسندی آسمان چھونے لگی، مسلمانوں کے خلاف مذہبی منافرت کا ایسا واقعہ کہ ملک بھر کے مسلمان ایک ہو گئے، جواباََ بڑا قدم اٹھا لیا

نئی دہلی(نیوز ڈیسک)ہندودھرم نے ایک مرتبہ پھر اسلام دشمنی عیاں کر دی،ہندو خاتون نے ٹیلیکام کمپنی ائر ٹیل کے مسلمان ملازم کی خدمات حاصل کرنے سے انکار کر دیا، ہندو ملازم نے شکایت کا ازالہ کیا تو سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہو گیا، ائر ٹیل کو چھوڑ کر دوسری ٹیلی کام کمپنی کا صارف بنیں گے، ڈیر سک(بیمار)میڈم !یہ ایئرٹیل کی کسٹمر سروس ہے، ہندو کے لیے ایک دبائیے،شمالی ہندوستانی کے لیے دو دبائیے۔ مبارک ہو، آپ ملک کو تقسیم کرنے اور ہماری سیاست کو انہی باتوں میں الجھائے رکھنے میں کامیاب ہوگئی ہیں،ایئرٹیل مذہب یا ذات کی بنیاد

پر بالکل تفریق نہیں کرتا اور ہم آپ سے بھی درخواست کریں گے کہ آپ بھی ایسا نہ کریں۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں ایک ہندو خاتون نے ملک کی ایک بڑی ٹیلی کام کمپنی کے مسلمان ملازم کی خدمات استعمال کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد جب کمپنی کے ایک ہندو ملازم نے شکایت کے ازالے کی ذمہ داری سنبھالی تو سوشل میڈیا پر طوفان آ گیا۔ ٹوئٹر صارفین پوجا سنگھ اور ٹیلی کام کمپنی ایئرٹیل دونوں کو تنقید کا نشانہ بنا تے رہے ۔پوجا سنگھ نے اپنے ٹوئٹرہینڈل پر لکھا کہ ڈئیر شعیب !آپ مسلمان ہیں اور مجھے آپ کے کام کرنے کے طریقے پر بھروسہ نہیں اس لیے میری شکایت کے ازالے کے لیے آپ کسی ہندو ملازم کو بھیجیں ۔اس کے بعد ایئرٹیل کی جانب سے ایک ہندو ملازم نے پوجا سنگھ سے ٹوئٹر پر ہی رابطہ کیا اور کہا کہ وہ ان کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں گے۔چند ماہ قبل بھی ایک ہندو صارف نے ایک مسلمان ڈرائیور کی ٹیکسی میں سفر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔پوجا سنگھ کی ٹویٹ اور ایئرٹیل کے روئیے پر کئی سرکردہ شخصیات نے رد عمل ظاہر کیا ۔مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبد اللہ نے کہا کہ وہ ایئرٹیل کو اب ایک بھی پیسہ نہیں دیں گے اور کسی دوسری کمپنی کی خدمات حاصل کریں گے۔مصنف اور کالم نگار چیتن بھگت نے طنزیہ کہا کہ ڈیر سک(بیمار)میڈم !یہ ایئرٹیل کی کسٹمر سروس ہے، ہندو کے لیے ایک دبائیے، شمالی ہندوستانی کے لیے دو دبائیے۔ مبارک ہو، آپ ملک کو تقسیم کرنے اور ہماری سیاست کو انہی باتوں میں الجھائے رکھنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔اس تنقید کے بعد ایئرٹیل نے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ ڈیر پوجا! ایئرٹیل مذہب یا ذات کی بنیاد پر بالکل تفریق نہیں کرتا اور ہم آپ سے بھی درخواست کریں گے کہ آپ بھی ایسا نہ کریں۔

Like Our Facebook Page

Latest News