December 3, 2017.۔۔ انٹرینشنل نیوز

ابق یمنی صدر عبداللہ صالح کی مذاکرات کی پیشکش، سعودی عرب کا خیرمقدم

..

صنعاء (آن لائن)سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحاد نے یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے۔عبداللہ صالح کو 2012 میں اس وقت اقتدار چھوڑنا پڑا جب ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گئے تھے اور انھیں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہے۔علی عبداللہ صالح نے ٹی وی پر ایک بیان میں کہا کہ’ وہ ایک نئی شروعات پر تیار‘ ہیں اگر سعودی اتحاد شمالی یمن کی ناکہ بندی ختم کر دے اور حملے روک دے۔‘’میں اپنے ہمسایہ ممالک کے بھائیوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی جارحیت اور ناکہ بندی ختم کریں اور ہم ایک نئی شروعات کر سکتے ہیں۔‘انھوں نے اس کے ساتھ حوثی باغیوں کی ’ان کی پارٹی کے ارکان پر شرمناک حملے کی مذمت کی‘۔علی عبداللہ صالح کے ایک ترجمان ہاشم شرف عبداللہ نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا ہے کہ سابق صدر نے یہ فیصلہ حوثی باغیوں کے نامناسب رویے کے سبب کیا ہے۔سعودی قیادت میں اتحاد نے سابق یمنی صدر کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ آگے بڑھنے اور اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے سے یمن کو ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا سے آزاد کرایا جا سکے گا۔ایک بیان میں سعودی عرب کا کہنا ہے کہ انھیں اعتماد ہے کہ صالح کی جماعت واپس عرب دنیا میں آ جائے گی۔تاہم حوثیوں کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ’صالح کی تقریر اتحاد اور شراکت داری کے خلاف بغاوت ہے اور اس فریب کو بے نقاب کیا ہے کہ جو جارحیت کے خلاف کھڑا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔`

 

Like Our Facebook Page

Latest News