February 18, 2018=National News

یورپ میں ’’باجوہ ڈاکٹرائن‘‘کے چرچے،پاکستان کو یہ احساس ہو گیا کہ گزشتہ 70 سال تک امریکا پر اعتبار کر کے اس نے غلطی کی تھی،برطانوی تھنک ٹینک کے انکشافات

لندن (آن لائن)برطانوی تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے سربراہ کا جنرل قمر جاوید باجوہ کا ڈاکٹرائن امریکی دھمکیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل باجوہ کو مشرف تصور کر کے غلطی کی۔برطانیہ کے معروف تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ جنرل باجوہ کی زیر کمان پاک فوج امریکی انتظامیہ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے اور جنرل پرویز مشرف کے دور کے مقابلے میں زیادہ پْر اعتماد ہے۔برطانوی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق

باجوہ ڈاکٹرائن میں واضح کردیا گیا ہے کہ اب پاک فوج کو نہیں بلکہ دنیا کو مزید اقدامات کرنا ہیں، دہشت گردی کے خلاف مسلسل مہمات اور مشرقی سرحد کے حالات نے فوج کو پہلے سے زیادہ سخت جان بنا دیا ہے۔رائل یونائیٹڈ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق روس، چین، ترکی اور ایران پاکستان کے دفاع کے لیے سامنے آ چکے ہیں اور امریکا اسلام آباد پر اپنی گرفت کھو چکا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی انتظامیہ نے جنرل باجوہ کو پرویز مشرف سمجھ کر غلطی کی ہے جو امریکی دھمکی پر ڈھیر ہو گئے تھے، جبکہ جنرل باجوہ نے امریکا کی تمام دھمکیوں اور درخواستوں کا ڈٹ کر جواب دیا ہے اور یہ واضح کردیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے مزید اقدامات کرنے کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق افغان جنگ میں کردار ادا کرنے والے امریکا کے اسلام آباد میں سابق اسٹیشن چیف ملٹ بیئرڈن اور سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اعتراف کرتی ہیں کہ افغان مسئلے کی ذمہ داری صرف پاکستان پر ڈالنا درست نہیں، پاکستان نے افغانستان سے متعلق اپنے تمام وعدے پورے کئے ہیں اس لیے پاکستان کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوئٹ حقیقت سے روگردانی کے مترادف ہے۔برطانوی تھنک ٹینک میں کہا گیا ہے کہ اب پاک فوج امریکی فوجی امداد میں کٹوتی اور سرحد پار سے امریکی کارروائیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے تمام خطرات سے نمٹنے کے لیےپوری طرح تیار ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی کوششوں کی عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کر چکی ہے۔رائل یونائیٹڈ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 2018 کے آغاز کے بعد پاکستان کو امریکا کی نہیں “Today I can say with pride and conviction that there are no organised camps on our side of the border. However, presence of terrorists of various hues and colours cannot be ruled out.

Like Our Facebook Page

Latest News