March 29, 2018 Intersting and Weird

بھارت سے ایک اور انوکھی خبر آگئی، 48 سال ساتھ گزارنے کے بعد دادا اور دادی نے شادی کرلی

اودے پور (نیوز ڈیسک) پیار کرنے والوں کی راہ میں معاشرے کے رسوم و رواج اکثر دیوار بن جاتے ہیں یعنی محبت کے رشتے کو شادی میں بدلنے کا سفر طویل اور کٹھن ثابت ہوتا ہے۔ بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا لیکن عجب بات یہ ہوئی کہ انہیں شادی کی منزل تک پہنچتے پہنچتے آدھی صدی لگ گئی۔ شادی کا وقت آیا تو دولہے کی عمر 80 سال اور دلہن 76 سال کی ہو چکی تھی۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اودے پور شہر کے ورجیا پادا گاﺅں سے تعلق رکھنے والا یہ جوڑا گزشتہ 48 سال سے اکٹھے زندگی ضرور گزاررہا تھا مگر معاشرتی پابندیوں کی وجہ سے شادی کی رسم ادا نہیں کر پایا تھا۔ دیوداس کلاسوا نامی نوجوان 48 سال قبل اپنے پڑوسی گاﺅں کی لڑکی مگدو بائی کو بھگا کر اپنے گاﺅں لایا تھا۔ دونوں کے خاندان ان کی شادی پر تیار نہیں تھے اور یوں مقامی روایات کے مطابق ان کی شادی کی رسم نہیں ہو سکتی تھی، البتہ وہ دونوں اکٹھے ضرور رہ سکتے تھے۔ اس جوڑے کے ہاں بچے بھی ہوئے اور اب درجنوں پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں بھی ہیں۔دیوداس اور مگدوبائی بوڑھے ہو گئے مگر دھوم دھام سے شادی کرنے کا خواب ابھی بھی دل میں تھا۔ ان کے ارمانوں کا خیال کرتے ہوئے ان کے بچوں نے سوچا کہ کیوں نہ مگدو بائی کے خاندان والوں سے ایک بار پھر درخواست کی جائے کہ وہ ان کی شادی پر راضی ہو جائیں۔ اس مقصد کے لئے مگدوبائی کے خاندان سے رابطہ کیا گیا اور کچھ پس و پیش کے بعد بالآخر وہ بھی راضی ہوگئے۔ دونوں جانب سے رضامندی کے بعد مگدو بائی اپنے گاﺅں چلی گئی اور پھر 80 سالہ دیوداس بارات لے کر پڑوسی گاﺅں گیا جہاں 76 سالہ دلہن اس کی منتظر تھی۔اس انوکھی شادی میں دونوں دیہاتوں کے لوگوں نے بھرپور شرکت کی۔ مقامی روایت کے مطابق دولہے والے اپنے ساتھ 50 کلو چاول لے کر گئے تھے جس میں 10 کلو چاول دلہن والوں کی جانب سے شامل کئے گئے اور یوں شادی کی دعوت کا اہتمام کیا گیا۔ دیوداس کے بیٹے ارجن لعل نے اس موقع پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والدین کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ معاشرہ انہیں میاں بیوی کے طور پر قبول کرے اور بالآخر ان کی یہ خواہش پوری ہوگئی ہے۔

Like Our Facebook Page

Latest News